ایک گھڑا اور وزارتِ گھڑا: بیوروکریسی کا انوکھا تماشہ

Image
 کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔ جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، "چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔" سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے ساتوں دن ایک ہی ماشکی یا سنتری سے ڈیوٹی نہیں لی جا سکتی، لہٰذا سات سنتری اور سات ماشکی بھرتی کیے جائیں تاکہ یہ کام بلاتعطل جاری رہ سکے۔ ایک اور 'محنتی' اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے پانی بھر کر لانا نہ تو سنتری کا کام ہے اور نہ ہی ماشکی کا۔ اس مشقت طلب کام کے لیے سات باربردار (مزدور) بھی رکھے جائیں جو روزانہ...

کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کو حیرت بھی ہوتی ہے اور بے اختیار ہنسی بھی آ جاتی ہے۔



جنوبی افریقہ کے مشہور جنگلی علاقے Kgalagadi Transfrontier Park میں ایک وائلڈ لائف فوٹوگرافر شیروں کی تصاویر لینے گیا ہوا تھا۔ اسی دوران اس کی نظر شیروں کے ایک غول پر پڑی جو ابھی ابھی شکار کر کے فارغ ہوا تھا۔


شکار ایک ہرن نما جانور تھا جسے سائنسی زبان میں گیمسبوک (Gemsbok) کہا جاتا ہے۔ پورے شیروں کے غول نے مل کر اس شکار کو خوب جی بھر کر کھایا۔


اسی دوران فوٹوگرافر Johan J Botha کی نظر ایک ننھے شیر کے بچے پر پڑی، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس پورے منظر کو یادگار بنا دیا۔


شیر کا وہ بچہ اتنا زیادہ کھا چکا تھا کہ اس کا پیٹ پھول کر گول سا ہو گیا تھا۔

وہ ریت پر اس طرح پھیل کر لیٹا ہوا تھا جیسے کسی نے اسے زبردستی اٹھنے سے منع کر دیا ہو۔ اس کی ٹانگیں ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں وہی کیفیت تھی جو انسان کو بہت زیادہ کھانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔


فوٹوگرافر کے مطابق اس دن گرمی بھی بہت شدید تھی۔ جنوری کا مہینہ تھا اور درجہ حرارت تقریباً 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔ دراصل یہ علاقہ جنوبی افریقہ کے صحرائی خطے میں واقع ہے اور چونکہ جنوبی افریقہ جنوبی نصف کرے (Southern Hemisphere) میں ہے اس لیے وہاں جنوری گرمیوں کا مہینہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں اس موسم میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔


شکار کے بعد باقی شیر آرام سے بیٹھ کر ایک دوسرے کو صاف کرنے لگے، جبکہ یہ ننھا سا شیر کچھ دیر اپنے باپ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر چند لمحوں بعد ہی اس کی ہمت جواب دے گئی۔


اتنا زیادہ کھانا اور اوپر سے شدید گرمی۔

آخرکار وہ زمین پر گر کر ایسے لیٹ گیا جیسے کسی بچے کو بھر پیٹ کھانے کے بعد غنودگی آ جاتی ہے۔

اسی لمحے فوٹوگرافر نے وہ تصویر کھینچی جو بعد میں انٹرنیٹ پر خوب وائرل ہوئی۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، شیروں کی زندگی کا طریقہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔ وہ روز تھوڑا تھوڑا نہیں کھاتے بلکہ جب شکار مل جائے تو خوب جی بھر کر کھاتے ہیں تاکہ کئی دن تک دوبارہ کھانے کی ضرورت نہ پڑے۔


ایک بالغ شیر ایک ہی وقت میں اپنے جسم کے وزن کا تقریباً 20 فیصد تک گوشت کھا سکتا ہے اسی وجہ سے شکار کے بعد اکثر شیر گھنٹوں بلکہ کبھی کبھی پورا دن آرام کرتے نظر آتے ہیں۔

اور کبھی کبھار یہی آرام… اس ننھے شیر کی طرح ایک دلچسپ “فوڈ کوما” کی صورت بھی اختیار کر لیتا ہے۔


اس پوسٹ کو تیار کرتے ہوئے اچانک میرے ذہن میں ایک اور بات بھی آئی۔

آج کل رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے اور افطاری کے بعد بعض لوگوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہو جاتا ہے… جیسا اس تصویر میں ننھے شیر کا ہوا۔۔۔


آپ کا کیا خیال اس بارے میں؟


اگر پوسٹ اچھی لگی ہو تو اسے آگے دوسروں تک ضرور پہنچائیں۔


Comments

Popular posts from this blog

5 Proven Ways to Earn $100/Day Passive Income in 2026

9267 سے میسج آ گیا؟ حکومت کے 10,000 روپے نکالنے کا مکمل اور صحیح طریقہ جانیں

Pakistan mein Monthly 50,000 PKR tak Kamane ke 3 Real Tareeqay (2026 Updated)