ایک گھڑا اور وزارتِ گھڑا: بیوروکریسی کا انوکھا تماشہ

Image
 کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ براہِ راست نہر سے پانی پینے پر مجبور تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام کی سہولت کے لیے یہاں ایک بھرا ہوا گھڑا رکھ دیا جائے، تاکہ ہر خاص و عام باآسانی پانی پی سکے۔ یہ فرمان صادر کرنے کے بعد بادشاہ اپنے طویل سفر پر آگے بڑھ گیا۔ جب شاہی حکم کی تعمیل میں نہر کے کنارے ایک گھڑا لا کر رکھا جانے لگا، تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا، "چونکہ یہ گھڑا سرکاری خزانے سے خریدا گیا ہے اور شاہی فرمان پر نصب ہو رہا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایک سنتری کی تعیناتی ازحد ضروری ہے۔" سنتری کی تعیناتی کے بعد یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ گھڑا بھرنے کے لیے ایک ماشکی کا ہونا بھی لازم ہے۔ پھر یہ دلیل دی گئی کہ ہفتے کے ساتوں دن ایک ہی ماشکی یا سنتری سے ڈیوٹی نہیں لی جا سکتی، لہٰذا سات سنتری اور سات ماشکی بھرتی کیے جائیں تاکہ یہ کام بلاتعطل جاری رہ سکے۔ ایک اور 'محنتی' اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے پانی بھر کر لانا نہ تو سنتری کا کام ہے اور نہ ہی ماشکی کا۔ اس مشقت طلب کام کے لیے سات باربردار (مزدور) بھی رکھے جائیں جو روزانہ...

اندرنِ خلیج کا نیا راستہ: کیا UAE اور عمان آبنائے ہرمز کا متبادل ہو سکتے ہیں ؟


 🌍 آبنائے ہرمز اور اللہ کی قدرت انسان کی طاقت کی حقیقت

آج کل دنیا میں آبنائے ہرمز کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ بڑے بڑے ملک اس راستے پر اپنی معیشت اور طاقت کا دارومدار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔

وہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا اصل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

اگر ہم نقشہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں، تیل کے ذخائر اور سمندری راستے دراصل اللہ کی بنائی ہوئی قدرتی نعمتیں ہیں۔ انسان نے ٹیکنالوجی بنا لی، جہاز بنا لیے، پائپ لائنیں بنا لیں، لیکن سمندر، پہاڑ، راستے اور زمین کی ساخت انسان کے اختیار میں نہیں۔

آبنائے ہرمز کی مثال ہی لے لیں۔

یہ ایک قدرتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً ۲۰ فیصد تیل گزرتا ہے۔ اگر کسی دن یہ راستہ بند ہو جائے تو پوری دنیا کی معیشت ہل سکتی ہے۔

یہ ہمیں ایک بڑی حقیقت یاد دلاتی ہے:

انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

دنیا کے طاقتور ممالک متبادل راستوں کی بات کرتے ہیں، لمبے سمندری راستوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، پائپ لائنیں بچھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی قدرتی گزرگاہ کا مکمل متبادل آج تک کوئی نہیں بنا سکا۔

یہ سب کچھ ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت، دولت، تیل، تجارت اور معیشت سب عارضی چیزیں ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو چند دنوں میں دنیا کے بڑے بڑے نظام بدل سکتے ہیں۔

قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ:

"اور زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔"

لہٰذا ہمیں دنیا کی طاقتوں سے زیادہ اللہ کی قدرت پر یقین رکھنا چاہیے، کیونکہ اصل نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر یقین رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔س

Comments

Popular posts from this blog

5 Proven Ways to Earn $100/Day Passive Income in 2026

9267 سے میسج آ گیا؟ حکومت کے 10,000 روپے نکالنے کا مکمل اور صحیح طریقہ جانیں

Pakistan mein Monthly 50,000 PKR tak Kamane ke 3 Real Tareeqay (2026 Updated)