ایک گھڑا اور وزارتِ گھڑا: بیوروکریسی کا انوکھا تماشہ

آج کل دنیا میں آبنائے ہرمز کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ وہ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ بڑے بڑے ملک اس راستے پر اپنی معیشت اور طاقت کا دارومدار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔
وہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا اصل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اگر ہم نقشہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں، تیل کے ذخائر اور سمندری راستے دراصل اللہ کی بنائی ہوئی قدرتی نعمتیں ہیں۔ انسان نے ٹیکنالوجی بنا لی، جہاز بنا لیے، پائپ لائنیں بنا لیں، لیکن سمندر، پہاڑ، راستے اور زمین کی ساخت انسان کے اختیار میں نہیں۔
آبنائے ہرمز کی مثال ہی لے لیں۔
یہ ایک قدرتی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا کا تقریباً ۲۰ فیصد تیل گزرتا ہے۔ اگر کسی دن یہ راستہ بند ہو جائے تو پوری دنیا کی معیشت ہل سکتی ہے۔
یہ ہمیں ایک بڑی حقیقت یاد دلاتی ہے:
انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
دنیا کے طاقتور ممالک متبادل راستوں کی بات کرتے ہیں، لمبے سمندری راستوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، پائپ لائنیں بچھاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی قدرتی گزرگاہ کا مکمل متبادل آج تک کوئی نہیں بنا سکا۔
یہ سب کچھ ہمیں عاجزی سکھاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت، دولت، تیل، تجارت اور معیشت سب عارضی چیزیں ہیں۔ اگر اللہ چاہے تو چند دنوں میں دنیا کے بڑے بڑے نظام بدل سکتے ہیں۔
قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ:
"اور زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔"
لہٰذا ہمیں دنیا کی طاقتوں سے زیادہ اللہ کی قدرت پر یقین رکھنا چاہیے، کیونکہ اصل نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر یقین رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔س
Comments
Post a Comment